بھارت : اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے وقف بل کی منظوری


بھارت : اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے وقف بل کی منظوری

نئی دلی: بھارت میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے وقف بل کی منظوری پر حزب اختلاف کے ارکان نے شدید غم و غصہ ظاہر کیا ہے ۔حزب اختلاف کے ارکان نے اس عمل کو "مضحکہ خیز مشق” قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ حکمراں اتحاد مسلمانوں کے مذہبی امور میں مداخلت اورجمہوری اصولوں کو پامال کررہی ہے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے چیئرپرسن جگدمبیکا پال نے آمرانہ رویہ اختیار کر تے ہوئے مجوزہ ترامیم کی 14شقوں میں حکمران اتحاد کی طرف سے پیش کی گئی تبدیلیوں کی حمایت کرتے ہوئے اپوزیشن کویکسر نظر انداز کیا ۔

حزب اختلاف کی جماعت ڈی ایم کے ایم پی اے راجہ نے کہاہے کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے وقف بل کی منظوری کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیاجائے گا۔انہوں نے کمیٹی کی کارروائی کو ایک "مذاق” قراردیا۔ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے کہاکہ کمیٹی نے اپوزیشن کی سفارشات کو ترامیم میں شامل نہیں کیا ہے ۔

اپوزیشن نے اس بل کی شدیدمخالفت کرنے والے فریقین کی طرف سے اپنے موقف کی حمایت میں دستاویزات فراہم کرنے میں ناکامی پر بھی تنقید کی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اپنی پارلیمانی اکثریت کے ذریعے سیکولر بھارت کو "زعفرانی” رنگ میں رنگ رہی ہے۔

حزب اختلاف نے بھارت ے عوام پرزوردیاکہ وہ ملک کی سیکولر اقداراور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں۔ انہوں نے خبردار کیاکہ اس بل سے آئینی ضمانتوں اور ۔۔سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں