سیز فائر اعلان کے باوجود اسرائیل کی غزہ پر بمباری
اس اعلان کے باوجود کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوا ہے اور اس معاہدے کو اتوار نافذ العمل ہوناہے ایک نیا اسرائیلی حملہ ہوا جس میں حماس کے زیر حراست خاتون قیدی کے مقام کو نشانہ بنایا گیا۔ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اعلان کیا کہ اسرائیلی حملے نے ایک ایسی جگہ کو نشانہ بنایا جہاں ایک خاتون کوقیدی بنا کر رکھا گیا تھا۔
غزہ معاہدے پر عمل اتوار سے شروع ہوگا، ہم امریکیوں کی رہائی کے منتظر ہیں: بلنکن
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی حکومتی توثیق کو ملتوی کرنے اور حماس پر اس کی بعض شقوں سے انکار کا الزام لگائے جانے کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے معاہدے کے نفاذ کے وقت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ غزہ معاہدے پر عمل درآمد اتوار سے شروع ہو جائے گا۔ غزہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے 15 ماہ کی تکالیف کے بعد غزہ پر ایک معاہدہ کیا۔
انٹونی بلنکن نے مزید کہا کہ ہم غزہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر امریکیوں کی رہائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ معاہدہ امریکی سفارت کاری کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے مزید طاقتور ہو گیا ہے۔ مزید برآں امریکی وزیر نے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے راستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے اسرائیلی میڈیا نے جمعرات کو اطلاع دی کہ اسرائیلی کابینہ کل جمعہ کو غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری کے لیے ایک اجلاس منعقد کرے گی۔
تین مراحل
یاد رہے جنگ بندی معاہدہ، جس پر 3 مرحلوں میں عمل درآمد ہونا ہے، اگلے اتوار سے نافذ العمل ہوگا۔ معاہدے کا پہلا مرحلہ 6 ہفتوں پر محیط ہے۔ معاہدے کے تحت غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا ہوگا۔ پہلے مرحلے میں 33 اسرائیلیوں کی رہائی بھی شامل ہے جن میں پچاس سال سے زیادہ عمر کے تمام خواتین، بچے اور مرد شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دو امریکی کیتھ سیگل اور سجوئے ڈیکل چن بھی رہا ہوں گے۔
معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے متعلق مذاکرات پہلے مرحلے کے 16ویں روز شروع ہونے والے ہیں۔ اس مرحلے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے تمام باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ہوگی۔ ایک مستقل جنگ بندی ہوگی اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا کی امید ہوگی۔ تیسرے مرحلے میں باقی تمام میتوں کی واپسی اور مصر، قطر اور اقوام متحدہ کی ۔۔نگرانی میں غزہ کی تعمیر نو کا آغاز کیا جائے گا
یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں