بھارت: ہولی کے رنگوں کی مزاحمت کرنے پر ہندو انتہاپسندوں نے مسلمان شخص کوپیٹ پیٹ کر قتل کر دیا

بھارت: ہولی کے رنگوں کی مزاحمت کرنے پر ہندو انتہاپسندوں نے مسلمان شخص کوپیٹ پیٹ کر قتل کر دیا

 

لکھنو:بھارت میں بی جے پی کے زیر اقتدارریاست اتر پردیش میں ہندو انتہاپسندوں نے ایک  48سالہ مسلمان شخص کو اس وقت پیٹ پیٹ کر بے رحمی سے قتل کردیا جب اس نے ہولی کے دوران اس پر رنگ پھینکنے کی مزاحمت کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتول کی شناخت شریف کے نام سے ہوئی ہے جو قاسم نگرانا ئوکا رہائشی تھا۔ وہ سعودی عرب میں بطور ڈرائیور کام کرتا تھا اور دو ماہ قبل وطن واپس آیا تھا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ شریف اپنے آبائی گھر سے مسجد کی طرف جارہا تھا کہ ہولی منانے والے ہندو انتہا پسندوں کے ایک گروپ نے آکر ان پر رنگ پھینکے۔ اس عمل کو کئی بار دہرایا گیا جس کی وجہ سے بحث ہو گئی۔اس دوران ہندوتوا گروپ نے شریف پرشدید حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
 
اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی اورعلاقے میں بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی کر دی گئی ہے۔ واقعہ کے بعد علاقہ مکین سڑکوں پر نکل آئے اور ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دریں اثناء اترپردیش کے شہر باغپت میں ایک اورواقعے میں موٹر سائیکلوں پر سوار ہندو انتہاپسندوں نے ایک مسلمان نوجوان کو جس کی شناخت شمیم کے نام سے کی گئی ہے ،شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ انتہاپسندوں نے پہلے نوجوان کی مذہبی شناخت کا پتہ لگایا ، اسکے بعد اس کو بے رحمی سے مارا پیٹا۔

مقتول اپنے گھر جا رہا تھا کہ موٹر سائیکل پر سوار ہندو انتہا پسند غنڈوں نے اسے روک لیا اور نام پوچھنے پر اسے بے رحمی سے مارنا شروع کر دیا۔ ملزمان نے اینٹوں اور لاٹھیوں سے حملہ کر کے شمیم کو شدید زخمی کر دیا۔  جیسے ہی کچھ مقامی افراد  جائے وقوعہ پر پہنچے، حملہ آور شمیم کو بری طرح زخمی کرکے موقع سے فرار ہوگئے۔

یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں

بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کا مسجد پر چھوٹی توپ سے حملہ